گوادر کے عوام فارم 47 کے جھوٹے دعووں اور قسموں سے منتخب ہونے والوں پر شکست کے مہر لگا دیں گے۔ میر حمل کلمتی

گوادر( گوادر ڈیجیٹل) گوادر کے عوام فارم 47 کے جھوٹے دعووں اور قسموں سے منتخب ہونے والوں پر شکست کے مہر لگا دیں گے، الیکشن سے پہلے قسم کھانا اور آنسو بہانا ڈھونگ تھا ۔ قسم کھانے والے کے دور میں ضلع گوادر میں تاریخ کی بدترین ٹرالنگ ھورہی ہے ۔ جماعت اسلامی نے بلوچستان میں کبھی بھی کوئی صوبائی اسمبلی کی سیٹ نہیں جیتی تھی ۔ موجودہ گوادر کا نمائندہ عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ پیچھے کے دروازہ سے لایا گیا ہے ۔ آج گوادر میں جتنے بھی ترقیاتی کام ھورہے ہیں یہ سب میرے دور کے منصوبے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار بی این پی کے مرکزی رھنما و سابقہ ایم پی اے میر حمل کلمتی نے محمد اسماعیل بلوچ کانفرنس ھال میں منعقدہ گوادر پریس کلب کے پروگرام حال و احوال سے خطاب کرتے ھوۓ کیا ۔ انھوں نے کہاکہ گوادر عوام کی مہربانیوں اور انکے دیۓ گۓ ووٹوں سے میں نے 15 سال تک صوبائی اسمبلی میں گوادر کی نمائندگی کی ۔ ان 15 سالوں میں میری حتی الامکان کوشش یہی رہی کہ ضلع گوادر کے مسائل کو کم کردوں اور ان مسائل کو اپنا مسائل سمجھا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ 2008 سے پہلے بلوچستان کی بجٹ 54 ارب تھی جو بلوچستان کے مملازموں کی تنخواہ اور دیگر کاموں پر خرچ ھوا کرتے تھے ۔ ترقیاتی کاموں کے لیۓ پیسے نہیں بچتے تھے لیکن این ایف سی ایوارڈ کے بعد بلوچستان کی بجٹ میں قدرے زیادہ اضافہ ھوگیا ہے ۔ این ایف سی ایوارڈ کے بعد بلوچستان کافی زیادہ آگے گیا ہے ۔ 2008 سے قبل ضلع گوادر کے حالات بہت مختلف تھے ۔ بہت مسائل تھے لیکن میں نے اپنے 15 سالہ دور میں گوادر میں بہت سے ترقیاتی کام کرواۓ ۔ پانی کا مسلہ کافی حد تک حل کروایا ہے – پہلے ایک ڈیم صرف آنکاڈہ ڈیم ھوا کرتا تھا لیکن آج ضلع گوادر کے مختلف علاقوں میں ڈیم بنواۓ گۓ ہیں ۔ شادی کور ڈیم ۔ سوڈ ڈیم ۔ ماکولہ ڈیم ۔ شیزنک ڈیم میرے منصوبے ہیں ۔ ضلع گوادر کے مختلف دیہی علاقوں میں پانی کے پائپ لائن بچھا دیۓ ہیں ۔ ضلع گوادر کے تعلیمی نظام کو بہتر کیا ہے پہلے بہت کم مڈل اور ھائی اسکول ھوا کرتے تھے لیکن میرے دور میں بہت سے اسکولوں کی اپ گریڈیشن ھوئی ہے ۔ پشکان ۔ جیونی ۔ پسنی میں کالجز تعمیر کرواۓ ہیں ۔ آج گوادر میں یونیورسٹی اور ٹیکنیکل ادارے بن گۓ ہیں جس سے گوادر کے طالب علم مستفید ھورہے ہیں ۔ میری خواہش تھی کہ ضلع گوادر کہ جس جس جگہ آبادی ہے وہاں ھائی اسکول ھو ۔ وزیراعلی قدوس بزنجو کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ گوادر کے لیۓ انکا کردار بھی اہم رہا ۔ مجھے مختلف اداروں کے لیۓ بہت سارے پوسٹیں دی جن میں گوادر کے مستحق و غریب و تعلیم یافتہ نوجوانوں کو برسر روزگار کروایا ۔ میں اپنے دور میں گوادر میں انڈس ھسپتال جیسا بڑا ھسپتال لے آیا ۔ پسنی میں عمانی گرانٹ سے ھسپتال تعمیر ھوئی ہے ۔ کلگ ۔ کلانچ اور دیگر دیہی علاقوں میں آر ایچ سی ھسپتال بناۓ گۓ ہیں ۔ اورماڈہ ۔ جیونی میں RHC بلڈنگ تعمیر کروائی ۔ ڈی ایچ کیو ھسپتال کے لیۓ پوسٹ پیدا کیۓ ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ میں نے اپنے ھردور میں ماھیگیروں کی فلاح و بہبود کے لیۓ کام کیا ۔ماھیگیروں کا گودی دیرینہ مطالبہ تھا تو انکو گودی بنواکر دیا ۔ انکو مختلف شکار کے اوذار تقسیم کرکے دیۓ ۔ بطور وزیر فشریز میں نے ٹرالنگ کو روک دی تھی ۔ میرے دور میں ٹرالنگ کا نام و نشان نہیں ھواکرتا تھا لیکن بدقسمتی سے آج گوادر میں ٹرالنگ کا سلسلہ دوبارہ عروج پر ہے بلکہ گوادر کی تاریخ کی بدترین ٹرالنگ ھورہی ہے – انھوں نے کہاکہ آج تعلیم کا دور ہے پہلے کمپیوٹر کا دور تھا اب AI کا دور ہے اور مستقبل میں گوادر کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان چیلنجوں کے مقابلہ کرنے کے لیۓ ضروری ہے کہ گوادر کے نوجوان تعلیم میں آگے ہیں ۔ گوادر نے نامور شاعر اور ادیب پیدا کیۓ ہیں اور ادبی سرگرمی میں گوادر ھر دور میں آگے تھا ۔ انھوں نے کہاکہ گوادر عوام کے سامنے قسمیں کھانے والے اور آنسو بہانے والے آج غائب ہیں ۔ گوادر میں آج جتنے بھی کام ھورہے ہیں وہ میرے دور کے منصوبے ہیں ۔ ملا فاضل چوک ۔ عید گاہ ۔ گراؤنڈز اور اسکولوں کی تعمیر و مرمت میرے منووبے ہیں ۔ اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ بھی میرے منصوبوں میں شامل ہیں ۔ موجودہ دور میں گوادر کے لیۓ ایک بھی کام نہیں ھوسکا ہے ۔ میرے پاس آج بھی گوادر کے لیۓ بہت سارے پلاننگ ہیں اگر فری اینڈ فیئر الیکشن ھوں تو عوام کے ووٹوں سے میں ہی کامیاب ھوجاؤنگا ۔ حال و احوال پروگرام میں گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن نے بھی مختصر خطاب کیا اور مہمان کا شکریہ ادا کیا جبکہ نظامت کے فرائض پریس کلب کے جنرل سیکریٹری و سنیئر صحافی سلیمان ھاشم نے سرانجام دیۓ ۔

اپنا تبصرہ لکھیں