کئی دنوں سے دل میں ایک خواہش انگڑائیاں لے رہی تھی کہ میں اپنی ان یادوں کو پھر سے دیکھوں، جنہیں میں نے ایک خاص صندوقچی میں برسوں سے محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ صندوقچی میرے لیے محض ایک بکس نہیں، بلکہ ماضی کا وہ خزانہ ہے جس میں میری زندگی کے حسین لمحات سانس لیتے ہیں۔ کئی مرتبہ بچوں نے اسے بےکار سمجھ کر ضائع کرنے کی کوشش کی، مگر میری سخت ہدایات کے باعث یہ آج بھی محفوظ ہے یوں جیسے میری یادیں وقت کے ہاتھوں سے بچ کر اسی میں پناہ لیے بیٹھی ہوں۔
گزشتہ روز عیدالفطر کے دوسرے دن، جب میرے بچے عید ملنے سسرال گئے اور گھر میں ایک خاموشی سی چھا گئی، تو مجھے وہی موقع مل گیا جس کا میں منتظر تھا۔ میں نے موبائل نیٹ ورک بھی بند کر دیا، تاکہ دنیا کے شور سے کٹ کر صرف اپنے ماضی کی دنیا میں داخل ہو سکوں۔میں نے بڑے اہتمام سے صندوقچی کو اس کے مقام سے اتارا، جھاڑ پونچھ کر صاف کیا، اور آہستگی سے اس کا ڈھکن کھولا۔ یوں لگا جیسے وہ خاموشی سے مجھ سے شکوہ کر رہی ہو:
"آخر آج تمہیں میری یاد آ ہی گئی…”
اس کے اس فرضی شکوے نے میرے دل کو چھو لیا، اور میں نے دل ہی دل میں اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے میری یادوں کو آج تک سنبھال کر رکھا۔سب سے پہلے میری نظر اپنی لکھی ہوئی تحریروں پر پڑی وہ تحریریں جو مختلف موضوعات پر میں نے لکھیں اور اخبارات و رسائل میں شائع ہوئیں۔ ان کے ساتھ اخباروں کی کٹنگز اور تراشے بھی موجود تھے۔ انہیں دیکھتے ہی میں ماضی کے اس دور میں جا پہنچا جب ہم حالاتِ حاضرہ سے لوگوں کو باخبر رکھنے کے لیے ہفت روزہ خود ہاتھ سے لکھتے، فوٹو کاپی کرواتے اور تقسیم کرتے تھے۔ ان دنوں میرے چند سینئر ساتھی بھی میرے ساتھ تھے، جن کی رہنمائی میں یہ سب ممکن ہوا۔
پھر ایک چھوٹے بکس میں رکھی وہ قلم میری نظر میں آئی، جس کے مختلف کٹے ہوئے نب خوش نویسی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یہ وہی قلم تھا جو مجھے گوادر ڈگری کالج کے میگزین باتیل کے طلبہ مدیر کی حیثیت سے تحفے میں ملا تھا۔ اس قلم کے ساتھ میری محنت، میرا شوق، اور خوب صورت لکھائی کی جستجو جڑی ہوئی تھی۔ اسی طرح کی ایک قلم میں نے ایران کے شہر چابہار سے بھی خریدی تھی، جہاں فنونِ لطیفہ کی خوشبو ہر گلی میں محسوس ہوتی ہے۔پھر میری نظر فوٹو البمز پر پڑی وہ تصویریں جو طالب علمی کے دنوں اور اس کے بعد دوستوں کے ساتھ مختلف دوروں، پکنک پارٹیوں اور خوشگوار لمحوں کی گواہ تھیں۔ ان تصویروں کو دیکھتے ہی میں جیسے وقت کی قید سے آزاد ہو گیا۔ کچھ لمحوں کے لیے میں انہی یادوں میں کھو گیا—ایک ایسی دنیا میں جہاں نہ کوئی فکر تھی، نہ مسائل، نہ زندگی کی الجھنیں۔
آج کا دور انٹرنیٹ کا دور ہے۔ دنیا سمٹ کر ایک اسکرین میں آ گئی ہے، مگر اس کے باوجود انسان پہلے سے زیادہ پریشان نظر آتا ہے۔ معاشی بدحالی، جنگیں اور بے سکونی نے انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ پرانی یادیں ایک سکون کا ذریعہ بنتی ہیں ایک ایسی پناہ گاہ جہاں انسان کچھ دیر کے لیے خود کو پھر سے پا لیتا ہے۔صندوقچی کو ٹٹولتے ہوئے عصر کی اذان ہوگئی۔ یہ تین گھنٹے کیسے گزرے، مجھے کچھ خبر ہی نہ ہوئی۔میں نے اپنی یادوں کو سمیٹ کر صندوقچی کو دوبارہ بند کر دیا، مگر اس بار دل ہلکا تھا۔ یوں لگا جیسے میں نے اپنے ماضی سے ایک بار پھر ملاقات کر لی ہواور وہ ملاقات مجھے آج کے ہنگامہ خیز دور میں جینے کا حوصلہ دے گئی ہو۔
"یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں بس دل کے قریب ہوتی ہیں”
