عالمی یومِ صحافت کے موقع پر گوادر کے صحافیوں کی بے لوث جدوجہد … اختر ملنگ

عالمی یومِ صحافت کے موقع پر گوادر کے صحافیوں کی بے لوث جدوجہد

دنیا بھر میں ہر سال تین مئی عالمی یومِ صحافت اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ صحافت کی آزادی، سچائی اور عوامی خدمت کے اصولوں کو فروغ دیا جائے۔ یہ دن اُن صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے جو مشکل حالات کے باوجود حقائق عوام تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
اگر بات کی جائے گوادر کی، تو یہاں کے صحافی ایک منفرد مثال قائم کیے ہوئے ہیں۔ وسائل کی کمی، سہولیات کے فقدان اور پیشہ ورانہ مشکلات کے باوجود گوادر کے بیشتر صحافی فری لانس بنیادوں پر صحافت کر رہے ہیں۔ وہ بغیر کسی معاوضے کے ہر خبر کے پیچھے دوڑتے ہیں، صرف اس لیے کہ عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ گوادر کے صحافیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی لالچ یا دباؤ کے بغیر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ یہاں زرد صحافت کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے اور یہی بات ان کی پیشہ ورانہ دیانتداری کا ثبوت ہے۔ گوادر میں صحافت کرنا آسان نہیں۔ دور دراز علاقوں تک رسائی، محدود وسائل، اور بعض اوقات سیکیورٹی خدشات کے باوجود، یہاں کے صحافی اپنی ذمہ داری کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ عوامی خدمت سمجھتے ہیں۔ ان کی محنت اور لگن اس بات کی گواہ ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔
اس موقع پر گوادر پریس کلب کے صحافیوں کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے، جو نہ صرف اپنے ساتھیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں بلکہ صحافت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ عالمی یومِ صحافت کے اس دن ہم گوادر کے تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، جن کی جدوجہد، قربانیاں اور دیانتداری ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں