میرے کچھ دوست کراچی سے گوادر تشریف لائے چونکہ وہ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں، اس لیے سب سے پہلے انہوں نے بارڈر کا وزٹ کیا تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لے سکیں۔ رات کو جب ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تو گوادر کی خوبصورتی کی تعریف کرتے رہے۔ ایک دوست نے کہا گوادر واقعی ایک خوابوں کا شہر ہے۔ کیا شفاف سمندر ہے، کیا دلکش ساحل ہے۔ قدرتی مناظر دیکھ کر لگتا ہے کہ قدرت نے ہر منظر میں رنگ بھر دیا ہے۔
میں بھی اس کی باتوں کی تائید میں سر ہلاتا رہا۔ واقعی، گوادر کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ سنہری ساحل اور پُرسکون فضا دل موہ لیتی ہے۔ اسی دوران ایک اور دوست نے مسکراتے ہوئے مجھ سے سوال کیا بھائی اختر آج کے گوادر میں اور کل کے گوادر میں کیا فرق ہے؟۔
میں کچھ لمحے خاموش رہا اور پھر گویا ہوا! پہلے جب ہم کراچی کا سفر کرتے تھے تو کراچی پہنچنے میں تین دن لگ جاتے۔ راستے مشکل تھے اور سڑکیں کچی تھیں۔ لیکن اس وقت ایک اطمینان تھا کہ سفر اگرچہ طویل ہے مگر راستہ کھلا ہوگا اور ہم کسی روک ٹوک اور سکون سے منزل تک پہنچ جائیں گے۔
آج کوسٹل ہائی وے بن چکی ہے۔ کراچی کا سفر دنوں سے سمٹ کر چند گھنٹوں کا رہ گیا ہے۔ یہ سڑک واقعی ایک بڑی سہولت ہے۔ مگر اسی سڑک کی وجہ سے تیز رفتاری کے باعث حادثات بھی رونما ہورہے ہیں اور کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہو گئی ہیں۔ ہمارے بہت سے ڈرائیوروں نے پہلے ایسی پکی اور کشادہ سڑک شاید ہی دیکھی ہو، اسی لیے حادثات اور نقصان کا سبب بن گئی ہے۔
مگر اصل فرق صرف سڑک کا نہیں ہے۔ پہلے ہم دیر سے سہی، مگر اطمینان کے ساتھ پہنچ جاتے تھے۔ آج یہ فکر رہتی ہے کہ نہ جانے کس مقام پر راستہ بند ملے۔ کبھی ہڑتال کی وجہ سے سڑک بند ہوتی ہے اور کبھی کسی اور وجہ سے۔ کئی بار یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمیں کس علاقے میں رات گزارنی پڑ جائے۔
آج کراچی کا سفر مشکل اور پریشان کن محسوس ہوتا ہے۔ جگہ جگہ چیک پوسٹوں پر گھنٹوں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ واقعی، پہلے حالات ایسے نہیں تھے۔ سفر لمبا ضرور تھا، مگر دل میں خوف اور بے یقینی کم تھی۔
آج کل بارڈر پر بارڈر ٹریڈ کا بہت ذکر ہوتا ہے، مگر یہ تجارت اصل میں کس کے فائدے کے لیے ہے اور کیا مقامی لوگ اس سے واقعی مستفید ہو رہے ہیں، یہ بات مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا۔ بارڈر ٹریڈ کیا ہے اور اس کے حقیقی فوائد کیا ہیں، اس بارے میں عام آدمی کو زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔
پہلے کے گوادر میں ہم راہداری کے ذریعے ایران جایا کرتے تھے۔ وہاں اپنے رشتہ داروں سے ملتے اور آسانی سے واپس آ جاتے۔ اس وقت گوادریوں کے لیے کوئی خاص سختی نہیں تھی۔ اس طرف سے بڑی مقدار اور تعداد میں اشیائے خورد و نوش آیا کرتی تھیں اور کسی قسم کی کوئی سختی یا پابندی نہیں تھی۔
دونوں طرف آپس میں رشتہ داریاں ہیں بارڈر پر صرف ایک لیویز سپاہی ہوتا تھا اور معاملات سادہ اور آسان تھے۔ مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔ اب بارڈر پر جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ آنے والا شخص ایک لمحے کو سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ یہاں کیوں آیا لیکن جانا مجبوری ہے اس لیے تمام مشکلات کے باوجود سفر کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے شہر جیونی کے سمندر کی طرف ایک جگہ ہے جسے کنٹانی ہور کہا جاتا ہے۔ پہلے یہاں حالات مختلف تھے۔ مقامی لوگ دوسری طرف سے تیل اپنے بوٹ کے ذریعے لاتے تھے۔ کسی کو زیادہ پتہ نہیں تھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ چند ہی کشتیاں ہوتی تھیں، جو انگلیوں پر گنی جا سکتی تھیں۔ لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے اور اپنی روزی باعزت طریقے سے کما لیتے تھے۔ مگر آج کا گوادر پہلے جیسا نہیں رہا۔ اب پورے ملک سے لوگ یہاں کام کی تلاش میں آتے ہیں۔ آبادی اور رش میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ روزگار کے مواقع اتنے نہیں جتنے ہونے چاہئیں۔ مقامی لوگوں کے لیے حالات مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ آج کنٹانی ہور میں ٹوکن کا ایک نیا رواج قائم ہو چکا ہے۔ پہلے مقامی افراد آزادانہ طور پر اپنا کام کیا کرتے تھے اب ٹوکن چلتا ہے اور صرف پسندیدہ افراد کو دیے جاتے ہیں، حتیٰ کہ بعض ایسے لوگوں کو بھی نوازا جاتا ہے جن کے پاس بوٹ تک نہیں ہوتیں۔ افسوس ہوتا ہے یہی ٹوکن بعد میں لاکھوں روپے میں خرید و فروخت ہوتے ہیں، جس سے شفافیت اور انصاف دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ صحیح معنوں میں روزی کمانا اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
کنٹانی ہور کے اردگرد رش اس قدر بڑھ چکا ہے کہ آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ ہور میں گر جاتے ہیں اور کئی لوگوں کی لاشیں آج تک نہیں مل سکیں۔ یہ صورتحال نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔
پہلے ایرانی کھانے پینے کی اشیاء بہت سستے داموں میں ملا کرتے تھے، جو عام آدمی کی پہنچ میں تھیں۔ مگر آج مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ غریب آدمی کے لیے وہی چیزیں خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
یہ ہے آج کا گوادر ترقی اور بے یقینی شہر گوادر ۔۔۔۔،
