اسلام آباد (نیوز ڈیسک)دنیا بھر کے 14 سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کے علاج سے متعلق تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو خط ارسال کیا ہے۔
آسٹریلوی اخبار دی ایج کی رپورٹ کے مطابق یہ خط وزیرِاعظم شہباز شریف کے نام لکھا گیا، جس میں عمران خان کی صحت خصوصاً حراست کے دوران بینائی سے متعلق خبروں پر گہری فکر کا اظہار کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق خط کا مسودہ سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے تیار کیا، جس پر مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، مائیکل بریئرلی، این چیپل، بیلنڈا کلارک، سنیل گواسکر، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، سر کلائیو لائیڈ، کپل دیو، اسٹیو وا اور جان رائٹ سمیت دیگر سابق کپتانوں کے دستخط موجود ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور 1992 کے ورلڈکپ میں ان کی قیادت میں پاکستان کی کامیابی نے نسلوں کو متاثر کیا۔دستخط کنندگان نے لکھا کہ ان میں سے کئی کھلاڑی عمران خان کے ساتھ یا ان کے خلاف کھیل چکے ہیں اور وہ انہیں کرکٹ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز اور کپتانوں میں شمار کرتے ہیں، جو کھلاڑیوں، شائقین اور منتظمین سب کے احترام کے مستحق ہیں۔ خط کے آخر میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ عمران خان کو فوری اور مستقل بنیادوں پر مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔دوسری جانب ان کے حالیہ طبی معائنے کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے۔ دو رکنی میڈیکل بورڈ نے 15 فروری 2026 کو اڈیالہ جیل میں ان کا معائنہ کیا۔ ماہر امراض چشم پر مشتمل ٹیم میں الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق عینک کے بغیر دائیں آنکھ کی بینائی 6/24 جزوی جبکہ بائیں آنکھ کی 6/9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ عینک استعمال کرنے پر دائیں آنکھ کی بینائی 6/9 جزوی اور بائیں آنکھ کی 6/6 ہو گئی۔معائنے میں دائیں آنکھ کے پردۂ بصارت پر سوزش کے آثار نوٹ کیے گئے، تاہم سوجن میں کمی اور موٹائی 550 سے گھٹ کر 350 ہونا بہتری کی علامت قرار دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے دونوں آنکھوں کے لیے نیواناک اور سسٹین الٹرا ڈراپس جبکہ دائیں آنکھ کے لیے اضافی طور پر کوسوپٹ آئی ڈراپس تجویز کیں۔
