رمضان المبارک: نعمتوں اور برکتوں کا مہینہ … تحریر: ایم بی سالک

رمضان المبارک: نعمتوں اور برکتوں کا مہینہ
تحریر: ایم بی سالک
ماہِ صیام یعنی رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مقدس مہینہ ہے۔ اسی بابرکت مہینے میں آفاقی کتاب قرآنِ مجید کا نزول ہوا، اور یہی وجہ ہے کہ اس مہینے کی ہر گھڑی اور ہر لمحہ بے حد قیمتی اور بابرکت ہے۔ دیگر مہینوں کے مقابلے میں رمضان المبارک کو تمام مہینوں کا سردار کہا جاتا ہے، کیونکہ اس مہینے میں کی جانے والی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا کر عطا کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک مہینے کو ثواب و جزا کا پیکر بنا کر مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت قرار دیا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس مقدس مہینے میں اپنی آخرت سنوارنے کے لیے کتنی نیکیاں اور بھلائیاں سمیٹتے ہیں۔ یہ مہینہ صرف دنیاوی کمائی یا ظاہری عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ اس کی اصل روح اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنا اور اپنی آخرت کو سنوارنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں روزے فرض کیے ہیں، اور روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات پر قابو پانے اور نفس کو پاکیزہ بنانے کا نام ہے۔ روزے کی حالت میں انسان کے جسم کا ہر عضو ہاتھ، زبان، آنکھیں، کان ، حتیٰ کہ اس کے اقوال و افعال اور میل جول بھی روزے کی روح کے مطابق ہونے چاہئیں۔ رمضان المبارک میں شرک، غیبت، ریاکاری اور دکھاوے جیسے اعمال سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اور ایسے اعمال پر بازپرس بھی ہوگی۔ درحقیقت یہ مہینہ تزکیۂ نفس، برداشت، صبر اور رحم دلی کا مہینہ ہے۔ ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ ہم ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں، کشادہ دلی کا مظاہرہ کریں اور باہمی ہمدردی وبھائی چارے کو فروغ دیں۔ یہ مقدس مہینہ انسان کے دل میں ایثار، ہمدردی اور غریبوں کی مدد کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے اپنی زندگی کو سنوارنے، گناہوں سے سچی توبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔۔تاہم اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ روزے کے دوران بھوک اور پیاس کے باعث چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں اور معمولی باتوں پر جھگڑنے لگتے ہیں۔ جب انہیں سمجھایا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ روزے کی وجہ سے ان کا دماغ کام نہیں کرتا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ روزہ انسان کو ذہنی طور پر چست اور جسمانی طور پر متحرک بناتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق روزہ رکھنے سے کئی بیماریوں، خصوصاً معدے کے امراض سے بچاؤ بھی ممکن ہوتا ہے۔
روزے کی حالت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے راضی ہوتا ہے، اس کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور اس کی روزی میں برکت عطا کرتا ہے۔ اس بابرکت مہینے میں ہمیں اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا چاہیے، ان کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔سال کے گیارہ مہینے ہم اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، مگر کم از کم رمضان المبارک میں ہمیں خود بھی مکمل اخلاص کے ساتھ روزے رکھنے چاہئیں اور اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ ہماری عاقبت سنور جائے اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔بدقسمتی سے دنیاوی اعتبار سے رمضان المبارک کے مہینے میں بعض لوگ ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور مالی منفعت کے لیے اشیائے خورد و نوش مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، جس سے عام عوام کی زندگی دشوار ہو جاتی ہے۔ کچھ افراد اس مہینے کو محض کمائی کا بہترین موقع سمجھتے ہیں، جو کہ نہ صرف اخلاقی بلکہ شرعی اور قانونی اعتبار سے بھی درست نہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ اس بابرکت مہینے کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم کریں تاکہ ہر شہری سکون کے ساتھ رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کے روزے رکھنے، اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

اپنا تبصرہ لکھیں