کل میرے ساتھ ایک عجیب سا واقعہ پیش آیا۔
میں حسبِ معمول سبزی خریدنے سبزی والے کے پاس گیا اور کہا
بھائی، پچاس روپے کے ہرا پیاز دے دو۔
اس نےہرا پیاز تول کر میرے ہاتھ میں رکھے۔ میں نے جیب سے پچاس روپے نکالے اور اس کے ہاتھ میں دے دیے۔ پیاز دیکھ کر مجھے کچھ گڑبڑ سی محسوس ہوئی، وزن یا معیار ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، اس لیے میں نے کہا
بھائی، یہ بدل دو، یہ ٹھیک نہیں ہیں۔
اس نے بغیر کسی بحث کے ہرا پیاز بدل دیے۔ پھر اچانک بولا
پیسے دو۔
میں چونک گیا۔
میں نے کہا، میں نے تو ابھی تمہیں پیسے دے دیے ہیں۔
وہ فوراً بولا ، نہیں، مجھے کوئی پیسے نہیں ملے۔
میں نے فوراً اپنی جیب چیک کیا جیب سے پچاس روپے کم تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میرے پاس کتنے پیسے تھے، اور یہ بھی یاد تھا کہ میں نے پچاس روپے اس کے ہاتھ میں دئیے تھے۔ مجھے اپنے آپ پر یقین تھا کہ میں صحیح ہوں
دوسری طرف سامنے والا انکار پر ڈٹا ہوا تھا۔ میں پچاس روپے کےلئے جھگڑا بھی نہیں کرنا چاہتا تھا
میں نے فیصلہ کیا چلو جانے دو ۔۔۔ پچاس روپیہ اتنی بڑی رقم نہیں ایک اور پچاس والا نوٹ انہیں دیا ۔ بس میرا ضمیر صاف ہے۔
اور میں خاموشی سے پیاز اٹھا کر وہاں سے چل دیا
مجھے موبائل بیلنس کی ضرورت پڑ گئی۔ میں قریبی دکان پر گیا اور بیلنس لوڈ کروایا۔ دکان دار نے ایک چھوٹا سا موبائل میری طرف بڑھایا اور کہا
نمبر ڈائل کریں
میں نے مسکراتے ہوئے کہا
یار مجھے چشمہ نکالنا پڑے گا۔ آپ نمبر لکھتے جائیں، میں بولتا ہوں۔
میں نے آہستہ آہستہ اپنا نمبر بتایا اور وہ ڈائل کرتا رہا۔ بیلنس بھی لوڈ ہو گیا…
میں دکان سے نکلا اور کسی کو فون کرنے لگا، مگر کال نہیں لگی۔ ایک دفعہ، دو دفعہ… پھر میسج بھیجنے کی کوشش کی، وہ بھی نہ گیا۔
دل میں عجیب سا شک پیدا ہوا۔
میں واپس دکان پر گیا اور کہا
بھائی ذرا چیک کرنا نہ کال ہو رہی ہے نہ میسج۔
اس نے دوبارہ اپنی موبائل چیک کیا تو معلوم ہوا بیلس میرے نمبر کے بجائے کسی اور کے موبائل میں بیلنس چلا گیا تھا۔
وہ مجھے دیکھ رہا تھا اور میں اسے۔
میں نے کہا
غلطی آپ کی طرف سے ہوئی ہے۔ دوبارہ بیلنس ڈال دیں۔
مگر وہ اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں تھا۔
اسی لمحے مجھے صبح سبزی والا یاد آ گیا۔ وہاں بھی پچاس روپے گئے تھے، یہاں سو روپے۔
میں نے پھر خود کو سمجھایا
چلو جانے دو، سو روپے کوئی پہاڑ نہیں۔
میں نے اب کی بار جیب سے چشمہ نکالا، اسے لگایا، خود اپنا نمبر ڈائل کیا۔ اس بار بیلنس ٹھیک طرح لوڈ ہو گیا۔ میں نے مزید سو روپے ادا کیے اور خاموشی سے وہاں سے چل دیا۔
مجھے عجیب سا لگا
آج میرے ساتھ کیا ہورہا ہے
گھر جاتے ہوئے اچانک یاد آیا سبزی اور ٹماٹر تو لیے ہی نہیں۔ قریب ہی ایک سبزی کی ریڑھی پر رک گیا۔
میں نے ریٹ پوچھا۔
ریڑھی والے نے کہا
ٹماٹر ڈیڑھ سو کلو، مٹر بھی ڈیڑھ سو کلو۔
میرے دماغ نے فوراً ٹوٹل کیا
آدھا آدھا کلو لے لیتا ہوں، کل تین سو بنیں گے۔
میں نے دونوں سبزیاں تولوا لیں۔ میں نے جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ میں دے دیا، پھر کہا
تین سو کاٹ لو، دو سو واپس دے دو۔
اچانک اس کے لہجے میں سختی آ گئی۔
نہیں جناب، اتنے نہیں ہوئے۔ ریٹ زیادہ ہے۔
میں نے حیرت سے کہا
ابھی تو آپ خود ڈیڑھ سو کلو بتا رہے تھے، اب اپنی بات سے مکر رہے ہو
ٹھیک ہے، یہ سب واپس لے لو اور میرے پیسے دے دو، میں کچھ نہیں لیتا۔
وہ فوراً بولا
آپ نے مجھے پیسے دیے ہی نہیں!
مجھے جیسے کرنٹ لگی
بھائی، میں نے ابھی اپنے بٹوہ سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر تمہیں دیا ہے۔ میں کیوں جھوٹ بولوں گا
اسی وقت ایک پولیس والا بھی وہیں خریداری کر رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا
جناب، آپ نے مجھے پیسے دیتے دیکھا ہے
وہ بولا نہیں، میں نے غور نہیں کیا۔
اب میں بھی اپنی بات پر اڑ گیا۔ دل میں ایک ہی بات گونج رہی تھی
یار، آج میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے ! پہلے پچاس، پھر سو، وہ میں چھوڑ چکا ہوں… مگر پانچ سو نہیں جانے دوں گا۔
آخرکار ریڑھی والے سے میں نے زور وشور سے اپنے پانچ سو روپے واپس لیے اور چل پڑا۔ جاتے جاتے بس اتنا کہا
بھائی زیادہ وہم نہیں کرنا میں پانچ سو سے امیر نہیں ہو جاؤں گا۔ واقعی میں نے آپ کو دیے تھے۔
اور میں گھر کی طرف روانہ ہو گیا…
پتہ نہیں کیوں،
گزشتہ دن میرے لیے عجیب ہی تھا
جیسے ہر موڑ پر مجھے صبر، برداشت اور انسانوں پر یقین آزمایا جا رہا ہو۔
