گوادر میں آل پارٹیز مکران کا تاریخی پاور شو، شاہ نواز گل جان کی فوری بازیابی کا دوٹوک مطالبہ

گوادر(بیورو رپورٹ)مکران بھر میں بڑھتے ہوئے اغواء برائے تاوان، بدامنی اور عوام کے عدم تحفظ کے خلاف آل پارٹیزمکران کے زیرِ اہتمام گوادر میں ایک بھرپور احتجاجی ریلی اور عظیم الشان عوامی پاور شو کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی نے شہر کی مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور بعد ازاں گوادر پریس کلب کے سامنے پہنچ کر ایک بڑے عوامی جلسے کی شکل اختیار کرلی۔احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز مکران کے ڈپٹی کنوینئر ایڈووکیٹ علاوالدین، رکن بلو چستان اسمبلی (ایم پی اے گوادر) اور امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن، مکران بار کونسل کے صدر ایڈووکیٹ سعید فیض، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ماجد سہرابی، جماعت اسلامی کے مولانا لیاقت، پنجگور بچاؤ کمیٹی کے سعود داد، بی این پی عوامی کے زاہد کریم ایڈووکیٹ، نیشنل پارٹی کے ولید مجید، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا محمد الیاس، پاکستان تحریک انصاف کے مولابخش مجاہد، آل پارٹیز کیچ کے خلیل تگرانی، ماہیگیر نمائندگان اکبر رئیس اور محمد حیاتان نے کہا کہ اغواء برائے تاوان ایک گھناؤنہ اور ناقابلِ معافی جرم ہے جس کے خلاف ریاست اور سکیورٹی اداروں کو فوری، مؤثر اور بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے۔مقررین نے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ مغوی شاہ نواز گل جان کو فی الفور بازیاب کرایا جائے اور اغواء میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مکران بھر میں اغواء برائے تاوان، ماورائے عدالت گرفتاریاں اور قانون سے بالاتر اقدامات نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی بھی ہیں۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا گیا کہ منشیات فروشوں، اغواء کاروں اور جرائم پیشہ عناصر کو محب وطن کا لبادہ اوڑھانے کی روش ترک کی جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ قاتل، دہشت گرد اور منشیات فروش بعض عناصر کی سرپرستی میں دندناتے پھر رہے ہیں، جو عوام کے صبر کا امتحان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس صورتحال پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی اور اسمبلی فلور سے لے کر سڑکوں تک آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
رہنماؤں نے کہا کہ مکران میں سکیورٹی اداروں کی بھاری نفری اور چیک پوسٹوں کی بھرمار کے باوجود معزز شہریوں کا اغواء ہونا حکومتی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ مکران کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے اور امن کو تہہ و بالا کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔مقررین نے نشاندہی کی کہ مکران میں سکیورٹی مد میں بجٹ کو بڑھا کر ایک کھرب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، اس کے باوجود امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش اور ابتر ہے۔ شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں، لوگ اپنے گھروں میں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج مکران بھر کے عوام سراپا احتجاج ہیں۔جلسے سے خطاب میں کہا گیا کہ موجودہ گھمبیر حالات کے پیش نظر تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قوتوں کو ذاتی و جماعتی اختلافات پسِ پشت ڈال کر متحد ہونا ہوگا۔ اغواء کا یہ واقعہ کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے مکران کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ اتحاد و اتفاق وہ طاقت ہے جسے کوئی قوت زیر نہیں کر سکتی۔آخر میں رہنماؤں نے اعلان کیا کہ شاہ نواز گل جان کی بازیابی تک احتجاجی تحریک ہر سطح پر جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں 25 جنوری کو تربت میں ایک بڑے عوامی جلسے کا انعقاد کیا جائے گا۔ مقررین نے کہا کہ گوادر کے اس تاریخی پاور شو نے ثابت کر دیا ہے کہ پورا مکران ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہو چکا ہے اور شاہ نواز کی بحفاظت بازیابی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں