گوادر میں ایرانی پٹرول پمپ بند، عوام شدید مشکلات کا شکار
گوادر میں ایرانی پٹرول کی فروخت سے وابستہ تمام پٹرول پمپ بند کر دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہ اقدام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
جبکہ گوادر انتظامیہ کی جانب سے کوئی نوٹیفکیشن گوادر میڈیا کی نظروں میں نہیں گزرا ہے۔
ایرانی پٹرول پمپوں کی بندش کے بعد گوادر کے عوام، بالخصوص ماہی گیر طبقہ، شدید مشکلات سے دوچار ہو گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایک لیٹر پٹرول کے حصول کے لیے کراچی سے پاکستانی پٹرول منگوانا پڑ رہا ہے، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ وقت طلب بھی ہے۔
واضح رہے کہ گوادر شہر میں اس وقت صرف دو پاکستانی پٹرول پمپ موجود ہیں، جہاں اکثر اوقات پٹرول نایاب رہتا ہے۔ اس صورتحال نے ماہی گیروں، مزدوروں اور روزانہ روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، کیونکہ ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث وہ اپنے کام کاج پر نہیں جا پا رہے۔
عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، کیونکہ اس کے منفی اثرات براہِ راست گوادر کے غریب اور محنت کش طبقے پر پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب، کئی تعلیم یافتہ اور گریجویٹ بلوچ نوجوان، جو ایرانی پٹرول کی فروخت سے اپنا اور اپنے خاندان کا روزگار چلا رہے تھے، بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر پٹرول پمپ بند کر دیے گئے ہیں تو حکومتِ بلوچستان انہیں ان کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت کے مطابق باعزت روزگار فراہم کرے۔
عوام کا کہنا ہے کہ جب تک گوادر میں پاکستانی پٹرول کی مناسب اور مستقل فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس طرح کے فیصلے مسائل کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیں گے۔