گوادر (رپورٹ: شریف ابراہیم ) صوبائی حکومت گرانڈ الائنس کے جائز مطالبات کی حل میں سنجیدہ نہیں ، مذاکرات میں وعدوں کے باوجود گزشتہ 6 ماہ سے صوبائی حکومت ملازمین کے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کررہی جو حکومت کی ملازمین دشمنی کا واضح ثبوت ہے ۔ ملازمین کو احتجاج کا کوئی شوق نہیں لیکن اپنے بنیادی حقوق ڈی آر اے سمیت اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے آخری حد تک جائیں گے ، صوبائی حکومت کی مایوس کن پالیسی پر اب ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ۔ اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے 29 دسمبر کو بلوچستان بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال اور 31 دسمبر کو دفاتر کی تالہ بندی کرکے حکومتی نظام کار روک دیں گے ۔ گرانڈ الائنس کے راہنماؤں کا ریلی اور احتجاجی مظاہرے سے خطاب مسائل حل کرنے کا مطالبہ
مرکزی کال ہر گرانڈ الائنس کے ملازمین نے ڈی آر اے سمیت اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے جدید ہائی اسکول سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف شاہراہِ پر گشت کرتے ہوئے پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی شکل اختیار کر گئی ۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے گرانڈ الائنس کے راہنماؤں نادل صالح ، حاجی قادر جان، طارق محمود ، ارشاد عالم ، ڈاکٹر برکت ندیم ، نوربخش بلوچ ، جلال میاہ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے گرانڈ الائنس کے ساتھ حکومتی وعدہ خلافی اور بے حسی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ جس کی وجہ سے صوبے کے ہزاروں ملازمین ایک مرتبہ پھر احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 6 ماہ قبل بلوچستان سے سرکاری ملازمین کی گرانڈ الائنس کی صورت میں ڈی آر اے سمیت ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے حصول کی بابت مزاکرات ہوئے ۔
جنھیں حل کرانے کے لیے صوبائی حکومت نے وعدہ وفا کئیے جس کی بناء پر حکومتی وعدوں پر یقین کرتے ہوئے صوبے کے وسیع تر مفاد میں ملازمین نے اپنے احتجاج مؤخر کئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ 6 ماہ کا عرصہ گزر گیا لیکن حکومت صوبے کے ملازمین کو لالی پاپ کے علاؤہ کچھ نہ دے سکی اور اپنے وعدوں سے مکر گئی ۔ جو صوبے کے ملازمین کے ساتھ دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں ۔ انھوں نے کہا بلوچستان ملک کا ایک امیر صوبہ ہے قدرت نے اس صوبے کو قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے ۔ لیکن اس امیر صوبے کے غریب ملازمین کسمپرسی اور غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ انھوں نے کہا کسی بھی ریاست کے قائم و دائم رکھنے اور نظام سرکار چلانے کے لئے اس صوبے کے ملازمین کا بڑا رول ہوتا ہے اور اس کے بغیر نظام سرکار نہیں چلتی لیکن صوبائی حکومت صوبے کے ملازمین کے ساتھ دہرا معیار پر اترآئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں ملازمین کو وفاقی طرز پر 30 فیصد ڈی آر اے دی گئی ہے اور ان کی تنخواہیں ، پنشن بڑھا کر ان کے مراعات میں اضافہ کردیا گیا ہے لیکن بلوچستان حکومت نے صوبے کے ملازمین کو صرف لالی پاپ دئیے انھیں صرف 5 فیصد ڈی آر اے دیا گیا جو صوبے کے ملازمین کے ساتھ سراسر زیادتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پھر گرانڈ الائنس نے صوبائی حکومت سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا حکومت سے مذاکرات کئے لیکن گزشتہ 6 ماہ سے حکومت ملازمین کے مطالبات منظور کرنے میں ناکام ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے وزراء سرکاری وسائل سے عیش و عشرت کررہی ہے لیکن سرکاری ملازمین کے لئے کچھ نہیں ہے ۔انھوں نے کہا حکومتی وعدوں کے برعکس اب ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے صوبے کے ملازمین اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔
اب صوبے کے ملازمین مزید منظم انداز میں اپنے بنیادی مطالبات کے لیے سراپائے احتجاج ہوں گے ۔ انھوں نے کہا حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ گرانڈ الائنس کے مطالبات فوری طور منظور کرے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو گرانڈ الائنس 26 تا 26 دسمبر کو پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے گی ، 29 دسمبر کو صوبے بھر کے دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کریں گے جبکہ 31 دسمبر کو صوبے بھر کے دفاتر میں تالا بندی کی جائے گی ۔ انھوں صوبے بھر کے ملازمین سے ان کے اپنے جائز مطالبات کے اور حقوق کے لیے باہم متحد و منظم ہوکر جدو جہد کرنے کی ضرورتوں پر زور دیا ہے ۔ اس موقع پر مظاہرین بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے ۔