گزشتہ روز پسنی میں مقامی ماہی گیروں اور کشتی مالکان کے درمیان جاری تنازعہ موجودہ ڈپٹی کمشنر گوادر کی سربراہی میں حل ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں اور ڈپٹی کمشنر گوادر نے بھی اپنے سوشل میڈیا فیس بک پیج پر مسلئے کو حل کرنے خبر شائع کی ہے۔ روزگار سے وابستہ یہ دیرینہ مسئلہ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ کی صورت اختیار کرتا جا رہا تھا کن نکات پر سلجھایا گیا؟
ضلعی انتظامیہ اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوئی ہے۔ماہی گیروں کے مطابق یہ معاملہ کافی پُرانا ہے لیکن اسے افرادی طاقت اس وقت ملی جب جماعتِ اسلامی کے رہنما اور موجودہ ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اپنے جماعتِ اسلامی کے "حق دو کراچی” کے نعرے کو "حق دو بلوچستان” میں تبدیل کرکے گوادر کے وائی چوک پر دھرنا دیا۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ جب گوادر کے ” وائی چوک ” پر ضلع گوادر سمیت مکران بھر کے مسائل کو لے کر دھرنے پر بیٹھے تھے تو پسنی میں سندھی ناخداؤں کی بیدخلی کی بات وہاں بھی سنائی دی لیکن چونکہ مسائل بہت تھے اسے اتنی پذیرائی نہ ملی۔دھرنے کے بعد مولانا ہدایت الرحمان بلوچ بلوچستان کے ایک مقبول لیڈر بن گئے اور بلوچستان میں تاریخی خواتین ریلی کے انعقاد کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے لوگوں کو ہر حوالے سے متحرک کرنا شروع کر دیا لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا لیکن "بلوچ اور بلوچستان کے حقوق کا ضامن” یہ کارواں 2024 میں 23،678 ووٹوں کی مدد سے بلوچستان اسمبلی کے فلور پر اختتام پذیر ہوا۔تاریخ گوکہ کسی کو معاف نہیں کرتی لیکن تاریخ خود کو دہراتی بھی ہے "او شہ مرید، او شہ مرید” جو بلوچ مزاحمتی شاعری میں ایک اعظیم شاہکار کے طور پر جانا جاتا ہے واجہ حسین واڈیلہ نے اسے عام فہم لوگوں تک پہنچایا، انتخابات کے موقع پر ایک ” سیاسی مزاحمتی ٹولز ” کے طور پر استعمال بھی کیا لیکن بعد میں اِس اعظیم شاہکار شعر کا تمسخر اُڑایا گیا۔
اور آج لوگ اس مزاحمتی شعر کو مجالس میں بیٹھ کر ازراہ مذاق پڑھتے ہیں،واجہ حسین واڈیلہ معافی مانگے نہ مانگے یہ اُن پر منحصر ہے لیکن ہم اس گستاخی پر واجہ میر گل خان نصیر کی روح سے معافی کے طلب گار ہیں۔شاید میں غلط نہ ہوں دھرنے کے دوران مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے پسنی کا دورہ کیا بلکہ پسنی کے ماہی گیروں نے انہیں دعوت دی اور سندھی ماہی گیروں کا مسئلہ پھر سے سر اٹھانے لگا۔22 جنوری 2022 کی شام مقامی ماہی گیروں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوئی، مقامی ماہی گیر جنہیں پہلے صرف سندھی ماہی گیروں کے شکار کے طریقہ کار اور اوقات پر اعتراض تھا اب وہ سندھی ماہی گیروں کے وجود ہی سے انکاری ہو گئے۔
مولانا کے نعرے ماہی گیروں کے لیے آکسیجن ثابت ہوئے۔ مکران کا پسماندہ طبقہ سیاست کے میدان میں آ گیا اِنکے وہ مجالس جہاں پہلے عام سطحی باتیں ہوتی تھیں اب وہ بلوچ اور بلوچستان کے درد و غم میں ڈوب گئے اور لاشعور نے شعور کا سفر طے کر لیا۔مختلف نعرے لگنے لگے، طبقاتی نعرے، فرقہ وارانہ نعرے، لسانی نعرے، علاقائی نعرے اور انہی نعروں کے درمیان ماہی گیری طبقہ آگے بڑھتا چلا گیا۔سندھی ناخداؤں کے لیے آواز اٹھانے والوں کو کاروباری اور بیوپاری کہا گیا،فش فیکٹریوں پر تالہ بندی کرانے کی باتیں ہوئیں، گھروں سے گھسیٹ کر سڑکوں پر لانے کی تقریریں ہوئیں، کچھ بیوپاریوں نے خاموش رہنا عافیت سمجھا لیکن کچھ ڈٹے رہے۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بیوپاری یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ سندھی ناخدا اُن کے کروڈوں روپے کے مقروض ہیں پھر کیا تھا حساب کتاب شروع ہوا۔ پسنی کے لوگوں نے وہ دن بھی دیکھا جب سندھی ناخداؤں کا قرض اتارنے کے لیے ماہی گیروں نے اپنے گھروں سے زیور، بکریاں، مرغیاں تک دے دیں، اور ایک ماہی گیر نے تو اپنی بیٹی کو بھی دینے کا اعلان کر دیا یہ سب کچھ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی موجودگی میں ہوئے۔قربانی اور اذیت کے دن تھے، جذبات کے دھارے میں لوگ بہتے گئے اور اُن کے جذبات سے خوب کھیلا گیا، چونکہ کھیلنے والے بے اختیار تھے اُن کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں تھا اور خود کو بااختیار بنانے کے لیے جذبات خوب کام آئے اور اِس تاریخی جملے نے حقیقت کا روپ دھار لیا کہ ” جذبات اندھے ہوتے ہیں” –
بااختیار ہونے کے بعد توقع یہ تھی کہ اب قانون سازی ہوگی، ماہی گیروں کے دن پھریں گے وہ نعرے جو پہلے صرف نعروں تک محدود تھے اب مضبوط قانون کا روپ دھار لیں گے، روزگار کا تحفظ ہوگا، ماہی گیروں کو مزدور قرار دینے کے لیے عملی کام ہوگا، اُن کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے اسکالرشپ اور سرکاری مراعات دی جائیں گی۔ لیکن طاقت، اقتدار اور اختیار ملنے کے بعد بھی نعرہ بازی جاری رہی۔تبدیلیوں کے منتظر لوگوں کو کچھ کلومیٹر پکی سڑکیں، عارضی ملازمتیں اور چند گھنٹوں کی خوشیوں پر اکتفا کرنے کو کہا گیا اور اُنہیں یہ باور کرایا گیا کہ یہ وہ کام ہیں جو پہلے صرف ایک طبقے کے لیے ہوتے تھے لیکن اب عام لوگوں کے لیے ہو رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب سمندر اور خشکی دونوں جگہوں پر روزگار چھن گئے، ہر اُس چیز پر پابندی لگ گئی جس سے سکون سے دو وقت کی روٹی میسر آتی تھی۔
اس بات کو چھوڑ کر کہ سمندر میں ٹرالنگ ابھی بھی اسی طرح ہو رہی ہے، پوچھنے والے اب بھی ہر آنے جانے والے کو روک کر پوچھ رہے ہیں۔ بارڈر پر پہلے غیر اعلانیہ اب تو اعلانیہ بندش لگا دی گئی ہے۔لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ماہی گیروں کو ان تین سال کے دوران کیا سہولیات میسر آئیں؟ اُن کے روزگار کو کتنا تحفظ ملا؟ اُن کے بچوں کو کیا تعلیمی سہولیات ملیں؟ اس کے ساتھ ساتھ ماہی گیروں کو لیبر قرار دینے کے بعد اُن کے لیے کیا قانون سازی کی گئی اور اُن قوانین پر کتنا عملدرآمد ہوا؟ اور دس سالوں سے میڈیا کی زینت بنی ہوئی دو سو ایکڑ پر مشتمل ماہی گیری کالونی کی تعمیر پر کیا پیش رفت ہوئی؟ یہ وہ بنیادی نکات ہیں جہاں خود احتسابی کا عمل شروع ہونا چاہیے۔
پسنی کے ماہی گیروں اور کشتی مالکان کا مسئلہ کتنا سنگین تھا؟ اعتراضات کیا تھے؟ اگر تنازعہ حل ہوا ہے تو کن نکات پر حل ہوا ہے؟ اور آئندہ اُن کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا یہ فیصلہ مستقبل میں مقامی سطح پر قانون کا حصہ بن جائے گا یا چند سالوں کے لیے ہوگا؟
اِن تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مستقل حل نکالنے کی ضرورت تھی کیونکہ اس تنازعے میں ماہی گیروں، کشتی مالکان اور مچھلی کے بیوپاریوں سمیت عام لوگوں نے بھی کافی پریشانیاں اٹھائی ہیں،ماہی گیر بے روزگار ہوئے،کشتی مالکان کی کروڑوں روپے کی کشتیاں ساحل کنارے کھڑی ناکارہ ہوگئیں،ایک ہی گھر کے لوگ آمنے سامنے ہوئے، لوگوں نے بہت دکھ برداشت کیئے،اب سوال یہ ہے کیا اس تمام نقصان کا جواب اور فائدہ محض ایک سوشل میڈیا پر جاری کی گئی پریس ریلیز ہی ہے؟ کیونکہ حل شدہ فیصلے کو جب تک قانونی شکل میں نافذ نہیں کیا جاتا، کل پھر کوئی دوسرا ” پرجوش شخص ” کسی چوک پر کھڑا ہو کر ماہی گیروں کے حقوق، غیرقانونی ٹرالنگ کی روک تھام اور "حق دو بلوچستان” جیسا نعرہ لگا کر لوگوں کو ایک اسی جلتی ہوئی بتی کے پیچھے لگا دے گا جس کے دوسری طرف صرف سمندر بند، احتجاج، عدالتوں کے چکر، دست وگریبان ہونا اور گٹھ بند گٹھ پچ جیسی چیزیں ہوں گی۔
