کچا ایئرپورٹ، خاموش قبریں، اور وقت کا رکا ہوا لمحہ
تحریر۔ سلیمان ہاشم
"جہاز کا شور تھما، مگر تاریخ کی سرگوشیاں باقی رہیں…” گوادر کی زمین پر اترتے اجنبی، اور صدیوں کی خاموشی کا گواہ پرانی وہ قبرستان جہاں ہمارے آباؤاجداد دفن ہیں۔
کوہ باتیل کی خوبصورت پہاڑی کے میٹھے بیر، اور آسمان کی وسعتوں میں گم ہوتا ہوا وہ سرخ ڈیکوٹا ہوائی جہازوں کو بھولنا مشکل ہے۔
چاک و چوبند پولیس لوگوں کا ہجوم رکا گیا، لوگوں کی حیرت، اور وقت کا ایک انوکھا باب۔
جہاز اڑ گیا، لوگ گئے، اور ایئرپورٹ کی ویرانی ہمیشہ کی طرح دل کو چھونے لگا۔
زندگی کا شور جیسے تھم گیا اور قبروں کی خاموشی نے جیسے اس علاقے کو پر اسرار بنا دیا۔
تاریخ کو آواز دی۔ جہاں سلطنت آف عمان کے کندھورے میں ملبوس لیوز کے بدو سپائی اب نہیں رہے
گوادر کی یادوں میں ایک پرانا جہاز اور ایک لمحے کی گہری خاموشی نے کئی تاریخی یادوں کو روشناس کرایا۔
پہاڑی کے بندات پر لگے بیر اس قدر میٹھے تھے کہ دوستوں نے ہنستے کھیلتے جیبیں بھر لیں۔ ہوا میں خوشبو اور بچپن کی شوخی گھلی ہوئی تھی۔ ہم چلتے چلتے جب کچی سڑک سے نیچے اترنے لگے تو سامنے کا منظر ہمیں ٹھٹکنے پر مجبور کر گیا۔ قبرستان کے سامنے، جہاں آج فٹبال گراؤنڈ آباد ہیں، اُس وقت ایک چھوٹا سا ایئرپورٹ موجود تھا۔ اور عین اسی لمحے ایک پرانا ڈیکوٹا جہاز زمین کو چھوتا ہوا لینڈ کر رہا تھا۔
ہم قریب پہنچے تو لوگوں کا ہجوم تھا۔ پولیس کے جوان وردی اور اسلحہ کے ساتھ کھڑے تھے، عوام کو گراؤنڈ میں داخل ہونے سے روک رہے تھے۔ جہاز کا دروازہ کھلا، اور اس میں سے دو انگریز فائیلٹ اترے۔ گوادر کے ناظم ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ انہوں نے اپنی پرانی جیپ میں مہمانوں کو بٹھایا اور چارپادگو بلڈنگ کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہم حیران تھےیہ کون لوگ تھے، کیوں آئے تھے؟ کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔
اگلے روز وہی منظر دوبارہ دہرایا گیا۔ انگریز واپس ایئرپورٹ پر آئے، جہاز کا انجن گڑگڑایا، پولیس نے راستہ صاف کیا، اور پھر وہ پرندے کی طرح دوڑتا ہوا آسمان کی وسعتوں میں گم ہو گیا۔ شور تھم گیا، پولیس چلی گئی، لوگ بکھر گئے۔ سورگ دل کا یہ کچا ایئرپورٹ اچانک ویران ہو گیا۔ جیسے وقت ایک لمحے کو رک گیا ہو۔
خاموشی کی اس فضا میں جب نظر مغرب کی طرف قبرستان پر پڑی تو دل پر ایک عجیب سا بوجھ اتر آیا۔ صدیوں سے سوئے ہوئے مردے اپنی قبروں میں خاموش تھے، اور زندہ لوگ بھی اس لمحے کی خاموشی میں ڈوب گئے۔ تاریخ کے اوراق جیسے ہمارے سامنے کھل گئے—جہاں ایک طرف زندگی کا شور تھا، وہیں دوسری طرف وقت کی گہری خاموشی۔