گوادر کا موٹر سائیکل میکانیکوں کے بازار کا آج آخری رش — کل ویرانی کا منظر
تحریر سلیمان ہاشم
کنٹانی ہور میں ایندھن کی بندش، نوجوانوں کا روزگار وقتی طور پرخطرے میں
اسمگلنگ نہیں، مجبوری ہے بلوچستان کے نوجوانوں کی بے روزگاری کی داستان
جلتے خواب، خالی بازار — گوادر میں روزگار کی تلاش ختم ہوتی جا رہی ہے
تعلیم یافتہ مگر بے روزگار بلوچستان کے نوجوان خطرناک راستوں پر مجبور
گوادر کے بازار میں خاموشی چھا گئی — کب کھلے گا روزگار کا دروازہ موٹر سائیکلوں پر لدا خواب — کنٹانی ہور کی بندش نے سب کچھ چھین لیا
یہ اسمگلر نہیں، روزی کے مسافر ہیں — بلوچستان کی حقیقت کو پہچانیے
ایندھن بند، امید بند — گوادر کے نوجوانوں کی زندگی کا موڑ
کنٹانی ہور کی سنڈی خالی، اب گوادر کا بازار بھی ویران
گوادر: کنٹانی ہور میں ایندھن کی بندش، موٹر سائیکل بازار میں آخری رش
گوادر کے نواحی علاقے کنٹانی ہور میں ڈیزل اور پیٹرول کی فراہمی وقتی طور پر بند کر دی گئی ہے، جس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اس بندش نے ان نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے جو ایران بارڈر سے بڑی مشقت کے بعد 220 لیٹر تک ایندھن موٹر سائیکلوں پر لاد کر اپنے سیٹھوں تک پہنچاتے تھے۔ ان کی تعداد سینکڑوں میں تھی، اور یہ نوجوان ہر جمعہ کو گوادر کے بازار میں نظر آتے تھے۔
یہ نوجوان، جن میں کئی تعلیم یافتہ بھی شامل تھے، بلوچستان میں روزگار کی کمی کے باعث اس خطرناک کام پر مجبور تھے۔ راستے میں بھتہ دینے کے باوجود وہ جو کچھ کماتے تھے، اسی سے اپنے گھروں کا چولہا جلاتے تھے۔ بدقسمتی سے، اس کام کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ لیکن ان کے پاس کوئی اور راستہ نہ تھا — پیٹ کی آگ نے انہیں سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور کر دیا۔
اس خطرناک سفر میں کئی نوجوان جل کر جاں بحق ہوئے، کچھ بیماریوں کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ آج وہ گوادر سے رخصت ہو رہے ہیں، اور موٹر سائیکل بازار میں آخری رش دیکھا جا رہا ہے۔ جیسے کل کنٹانی ہور سنڈی خالی تھا، ویسے ہی کل یہ بازار بھی ویران ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کب دوبارہ شروع ہوگا؟ کب روزگار کا دروازہ کھلے گا؟ بلوچستان کے نوجوانوں کو کب محفوظ اور باعزت روزگار میسر آئے گا؟