گوادر ایک بار پھر پانی کے شدید بحران کے دہانے پر
واٹر ٹینکر مالکان کا 3 دن کا الٹی میٹم، فراہمی بند ہونے کا خدشہ
گوادر اور اس کے گردونواح کے ہزاروں شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، جہاں پانی کا بحران ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ شہر کو پانی فراہم کرنے والے واٹر ٹینکر مالکان نے تین ماہ سے واجبات کی عدم ادائیگی پر واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ تین روز کے اندر ان کے تمام بقایاجات ادا نہ کیے گئے تو گوادر شہر کو پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔
گوادر میں آبی ذخائر کے خشک ہو جانے کے بعد صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کا فیصلہ کیا تھا، جس کی عملی ذمہ داری گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کو سونپی گئی۔ جی ڈی اے اور واٹر ٹینکر مالکان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہر پندرہ دن بعد ٹینکر مالکان کو ادائیگیاں کی جانی تھیں تاکہ پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
تاہم واٹر ٹینکر مالکان کے مطابق معاہدے کے تحت صرف ابتدائی پندرہ دن کی ادائیگیاں ہی کی گئیں، اس کے بعد گزشتہ تین ماہ سے ادائیگیاں روک دی گئی ہیں۔ اس طویل تاخیر کے باعث ٹینکر مالکان شدید مالی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جی ڈی اے کی مسلسل یقین دہانیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے فیول، گاڑیوں کی مرمت، ڈرائیورز اور دیگر عملے کی تنخواہوں کے لیے مقامی مارکیٹ سے بھاری قرض حاصل کیا تاکہ شہر کو پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
واٹر ٹینکر مالکان کے مطابق صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اب مقامی مارکیٹ سے مزید قرض حاصل کرنا بھی ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ فیول کی قیمتوں میں اضافے اور مینٹیننس کے بڑھتے اخراجات نے ٹینکر مالکان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ادائیگیوں کی عدم دستیابی نے ان کے کاروبار کو دیوالیہ پن کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔
دوسری جانب ٹینکر مالکان نے پانی کی ترسیل کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واٹر ٹینکرز میرانی ڈیم پوائنٹ سے پانی حاصل کرتے وقت ایک تصدیقی شیٹ پر دستخط کرواتے ہیں، جو پانچ سے چھ مختلف مقامات پر اندراج کے بعد ایئرپورٹ واٹر بکس تک پہنچتی ہے۔ اس شیٹ میں ہر ٹرپ کی مکمل تفصیلات درج ہوتی ہیں، تاہم حیران کن طور پر جی ڈی اے کے پاس موجود ریکارڈ اور ٹینکر مالکان کے پاس موجود شیٹس میں ٹرپس کی تعداد میں واضح تضاد پایا جا رہا ہے۔
ٹینکر مالکان کے مطابق اس تضاد سے نہ صرف ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر اپنے تحفظات اور خدشات باقاعدہ طور پر جی ڈی اے حکام کے سامنے رکھ دیے ہیں، مگر تاحال مسئلے کا کوئی عملی حل سامنے نہیں آ سکا۔
واٹر ٹینکر مالکان نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تین روز کے اندر اندر تمام واجبات کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر وہ مجبوری کے تحت گوادر شہر کو پانی کی فراہمی بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی فراہمی بند ہوئی تو اس کے سنگین سماجی اور انسانی اثرات کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
شہری حلقوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے، ادائیگیوں کے مسئلے کو حل کرے اور پانی کی مستقل و پائیدار فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کرے، تاکہ گوادر ایک بار پھر شدید آبی بحران کی لپیٹ میں آنے سے بچ سکے۔