دنیا کے طاقتور ترین اور جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ممالک امریکا اور اسرائیل کی جانب سے متعدد بار قتل کی دھمکیوں کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای نے محفوظ مقام پر جانے کے بجائے اپنی ہی سرزمین پر شہادت کو ترجیح دی۔
ہفتوں قبل نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اہل خانہ کے ہمراہ روس یا کسی اور محفوظ ملک منتقل ہو رہے ہیں تاکہ اسرائیلی اور امریکی شر انگیزیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
تاہم اُس وقت آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے ترجمان نے ایران چھوڑنے کی اطلاعات کو بے بنیاد اور مکمل جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایسی کسی دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں اور نہ ہی اپنے وطن اور اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
غیر ملکی یہ رپورٹس لغو اور آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے ترجمان کا بیان درست ثابت ہوا۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی زندگی کا آخری سانس بھی سرزمین ایران پر دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے لیا۔
گزشتہ روز رہبر اعلیٰ تہران میں اسرائیلی حملے میں ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے جس کی تصدیق ایرانی حکومت نے بھی کردی اور ان کی ملبے تلے دبی لاش کی تصویر بھی سامنے آگئی۔
حملوں میں وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پالپور، سپریم نیشنل سیکیورٹی کے سربراہ علی شامخانی اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی بھی شہید ہوئے۔
مہینوں کی منصوبہ بندی اور ہفتوں سے جاری کڑی نگرانی
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے لیے اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس مہینوں سے منصوبہ بندی میں مصروف تھے جب کہ کئی ہفتوں سے رہبراعلیٰ کی نقل و حرکت اور روز مرہ معمولات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔
